Links Contacts About Membership Conferences Publications Home  
 
 

انسان کے ناديدہ دشمن انسان سے بھي پہلے اس کرہ۔ء۔خاکي پر موجود ہيں۔ يہ خوردبني اجسام ہي انسان کو زندگي کي لذتوں سے آشنا کرتے ہيں اور انہي کي دوسري اقسام انسان سے زندگي کي تمام لذتيں چھين بھي ليتي ہيں۔ نظر نہ آنے والي اللہ کي يہ مخلوق ہماري زندگي کو جنت بھي بنا سکتي ہے اور يہي مخلوق زندگي کو جھنم کا نمونھ بنانے کي بھي صلاحيت رکھتي ہے۔

        انساني تاريخ ميں انساني جان کے ان ناديدہ دشمنوں کي شاخت کا اعزار مسلمان طبيبوں کو حاصل ہے جن ميں الرازي اور بو علي سينا قابلِ ذکر ہيں۔ سائنسي طريقے سے خوردبين کے ذريعے باقاعدہ ديکھنے کا ہترا ہالينڈ کے سائنسدان ليون پاک کے سر ہے۔ جس کے بعد فرانس کے نامور سائنسدان لوئس پاسچور نے الگ الگ جراثيم اور بيماريوں کا پتہ لگايا۔ جنھيں آج بيکٹيريا، وائرس، پروٹوزوا کا نام ديا گيا ہے۔

        ان دشمنوں کي شناخت کے بعد ان کے خلاف پہلي اينٹي بائيوٹک پنسيلين کے نام سے ١٩٢٩ ميں دريافت کي گئي اور اسے ١٩٤١ ميں ان ناديدہ دشمنوں کے خلاف کاميابي کے ساتھ استعمال کيا گيا۔

        بيماريوں کے خلاف انسان کي جنگ تو ابتدا ہي سے جاري ہے اور شايد ابھي صديوں جاري رہے۔ وقت کے ساتھہ دشمن بھي بدل رہے ہيں اور ان سے جنگ کرنے کے آلات اور انداز ميں بھي تبديلياں آتي جارہي ہيں۔ دشمن لاتعداد ہيں اور ان سے نبرو آزما ہونے کے وسائل محدود اس لئے ان دشمنوں سے باخبر رہنا اور ان سے بچنے کے لئے مسلسل کوشش کرتے رہنا ہمارے اور آپ کے لئے بہت ضروري ہے۔